اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق ایسے حال میں ـ جبکہ ـ یہودی ریاست اور آل سعود و وہایبت سمیہ کئی عرب ریاستوں کے حکام کے درمیان تعلقات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، صہیونی یہودیوں اور سعودیوں نے حزب اللہ اور اسلامی مزاحمت کے خلاف اپنی کوششوں کو شدت بخشی ہے۔ حزب اللہ کے کے ایک اعلی کمانڈر حسان ہولو اللقیس کل رات بارہ بجے کام سے گھر لوٹتے ہوئے بیروت میں اپنے گھر کے سامنے دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بن کر شہید ہوئے۔ حزب اللہ کے بیان کے مطابق حسان ہولو اللقیس اسلامی مزاحمت کے راہنماؤں میں سے تھے جو 3 دسمبر 2013 کی رات کو "السان تیریز" کے علاقے میں صہیونی ریاست کے ٹیرر اسکواڈ کے حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔ حزب اللہ نے کہا ہے کہ دہشت گرد صہیونی ریاست اس کاروائی کی ذمہ دار ہے جس نے ان کو قتل کرنے کے لئے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ناکام کوششیں کی تھیں۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم صہیونی ریاست کو اس حملے کے حوالے سے ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ شہید حاج حسان اللقیس کا ایک بیٹا بھی 2006 کی 33 روزہ جنگ میں شہید ہوگیا تھا۔ حاج حسان اللقیس کی شہادت کی تفصیل کل رات بارہ بجے بیروت کے جنوب میں ضاحیہ کے علاقے میں صہیونی ریاست کی بدنام زمانہ دہشت گرد جاسوسی تنظیم موساد سے وابستہ ٹیرر اسکواڈز نے حزب اللہ اور اسلامی مزاحمت تحریک کے ایک اعلی راہنما کو ان کے گھر کے سامنے گولی مار کر شہید کیا۔

صہیونی ریاست کے چینل 2 نے اعتراف کیا ہے کہ دہشت گردی کی یہ کاروائی مستعربین (عرب نما اسرائیلیوں) کے ٹیرر اسکواڈ "دودان" نے انجام دی ہے۔ دودان ٹیرر اسکواڈ ان صہیونیوں سے تشکیل پاتے ہیں جو عربی پر عبور رکھتے ہیں اور عربوں کے بھیس میں دہشت گردانہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ صہیونی ٹیلی ویژن نے کہا: موساد کے ٹیرر اسکواڈز نے کئی مرتبہ انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن تمام کاروائیاں ناکام ہوئی تھیں۔ شہید حاج حسان کی تدفین بعلبک میں ہوئی حزب اللہ نے اعلان کیا کہ شہید کمانڈر کی میت آج تین بجے سہ پہر بعلبک میں سپرد خاک کردی گئی۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے: ہمارے شہید بھائی اور کمانڈر شہید حسان اللقیس نے اپنی نوجوانی اور پوری عمر اسلامی مزاحمت تحریک میں صرف کی ہے اور ہمیشہ ایک مجاہد، ایک راہنما، تخلیقی صلاحیتوں کے مالک اور تخلیقی اقدامات انجام دینے والے، فداکار اور شہادت کے عاشق تھے اور جولائی 2006 کے ایک شہید کے والد تھے۔ اس بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے: اس دہشت گردانہ کاروائی کی براہ راست ذمہ داری صہیونی دشمن پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس نے مختلف علاقوں میں ہمارے شہید بھائی کو نشانہ بنانے کی ناکام کوششیں کی تھیں حتی کہ کل رات وہ اس مذموم اور بزدلانہ مقصد میں کامیاب ہوئی۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے: صہیونی ریاست کو اس کاروائی کی مکمل ذمہ داری قبول کرلینی چاہئے اور اس کے نتائج کو بھی قبول کرلے۔

حزب اللہ نے اپنے بیان میں شہید حسان اللقیس کو خاندان و پسماندگان کو تعزیت پیش کی ہے۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق ایسے حال میں ـ جبکہ ـ یہودی ریاست اور آل سعود و وہایبت سمیہ کئی عرب ریاستوں کے حکام کے درمیان تعلقات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، صہیونی یہودیوں اور سعودیوں نے حزب اللہ اور اسلامی مزاحمت کے خلاف اپنی کوششوں کو شدت بخشی ہے۔ حزب اللہ کے کے ایک اعلی کمانڈر حسان ہولو اللقیس کل رات بارہ بجے کام سے گھر لوٹتے ہوئے بیروت میں اپنے گھر کے سامنے دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بن کر شہید ہوئے۔ حزب اللہ کے بیان کے مطابق حسان ہولو اللقیس اسلامی مزاحمت کے راہنماؤں میں سے تھے جو 3 دسمبر 2013 کی رات کو "السان تیریز" کے علاقے میں صہیونی ریاست کے ٹیرر اسکواڈ کے حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔ حزب اللہ نے کہا ہے کہ دہشت گرد صہیونی ریاست اس کاروائی کی ذمہ دار ہے جس نے ان کو قتل کرنے کے لئے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ناکام کوششیں کی تھیں۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم صہیونی ریاست کو اس حملے کے حوالے سے ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ شہید حاج حسان اللقیس کا ایک بیٹا بھی 2006 کی 33 روزہ جنگ میں شہید ہوگیا تھا۔ حاج حسان اللقیس کی شہادت کی تفصیل کل رات بارہ بجے بیروت کے جنوب میں ضاحیہ کے علاقے میں صہیونی ریاست کی بدنام زمانہ دہشت گرد جاسوسی تنظیم موساد سے وابستہ ٹیرر اسکواڈز نے حزب اللہ اور اسلامی مزاحمت تحریک کے ایک اعلی راہنما کو ان کے گھر کے سامنے گولی مار کر شہید کیا۔ صہیونی ریاست کے چینل 2 نے اعتراف کیا ہے کہ دہشت گردی کی یہ کاروائی مستعربین (عرب نما اسرائیلیوں) کے ٹیرر اسکواڈ "دودان" نے انجام دی ہے۔ دودان ٹیرر اسکواڈ ان صہیونیوں سے تشکیل پاتے ہیں جو عربی پر عبور رکھتے ہیں اور عربوں کے بھیس میں دہشت گردانہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ صہیونی ٹیلی ویژن نے کہا: موساد کے ٹیرر اسکواڈز نے کئی مرتبہ انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن تمام کاروائیاں ناکام ہوئی تھیں۔ شہید حاج حسان کی تدفین بعلبک میں ہوئی حزب اللہ نے اعلان کیا کہ شہید کمانڈر کی میت آج تین بجے سہ پہر بعلبک میں سپرد خاک کردی گئی۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے: ہمارے شہید بھائی اور کمانڈر شہید حسان اللقیس نے اپنی نوجوانی اور پوری عمر اسلامی مزاحمت تحریک میں صرف کی ہے اور ہمیشہ ایک مجاہد، ایک راہنما، تخلیقی صلاحیتوں کے مالک اور تخلیقی اقدامات انجام دینے والے، فداکار اور شہادت کے عاشق تھے اور جولائی 2006 کے ایک شہید کے والد تھے۔

اس بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے: اس دہشت گردانہ کاروائی کی براہ راست ذمہ داری صہیونی دشمن پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس نے مختلف علاقوں میں ہمارے شہید بھائی کو نشانہ بنانے کی ناکام کوششیں کی تھیں حتی کہ کل رات وہ اس مذموم اور بزدلانہ مقصد میں کامیاب ہوئی۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے: صہیونی ریاست کو اس کاروائی کی مکمل ذمہ داری قبول کرلینی چاہئے اور اس کے نتائج کو بھی قبول کرلے۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں شہید حسان اللقیس کو خاندان و پسماندگان کو تعزیت پیش کی ہے۔ شہید حسان اللقیس اسرائیل کی فضائی نگرانی کرنے والی ڈرون یونٹ کے کمانڈر تھے حزب اللہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ شہید حسان اللقیس حزب اللہ کی فضائی یونٹ کے کمانڈر تھے جو متعدد بار ایوب اور مرصاد نامی ڈرونز کو صہیونی ریاست کے اہم مراکز کی فضاؤں میں بھجواتے رہے ہیں۔ لبنان کی الخبر پریس ویب سائٹ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ حسان ہولو اللقیس ـ ضاحیہ میں اپنے گھر کے سامنے شہید کئے گئے ـ حزب اللہ کے اہم اور تخلیق کار کمانڈر تھے اور وہ صہیونی دشمن کے اہم عسکری مراکز کی معلومات حاصل کرنے کے ماہر تھے اور ڈرونز کے ذریعے اس طرح کی معلومات حاصل کیا کرتے تھے۔ صہیونی ریاست کے ٹی وی چینل 2 نے ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہیں "عرب نما صہیونیوں" نے شہید کیا جو موساد کے ماتحت ہیں تاہم "بعلبک کی لواء احرار السنۃ" کہلوانے والی دہشت گرد تنظیم نے ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے اور یہ دونوں دعوے درست معلوم ہوتے ہیں کیونکہ صہیونی ریاست نے کہا ہے کہ وہ موساد کے عرب نما دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں اور لواء احرار کہلوانے والی دہشت گرد تنظیم عرب نما صہیونی تنظیم ہے جو اسلام کے نام پر یہودی ریاست کی خدمت کررہی ہے۔ اور یہ ان لوگوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو ابھی تک دہشت گردوں اور اسرائیل کے درمیان کسی ربط و تعلق کے منکر ہیں۔ صہیونی ریاست کے ٹی وی چینل 2 نے ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہیں "عرب نما صہیونیوں" نے شہید کیا جو موساد کے ماتحت ہیں تاہم "بعلبک کی لواء احرار السنۃ" کہلوانے والی دہشت گرد تنظیم نے ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے اور یہ دونوں دعوے درست معلوم ہوتے ہیں کیونکہ صہیونی ریاست نے کہا ہے کہ وہ موساد کے عرب نما دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں اور لواء احرار کہلوانے والی دہشت گرد تنظیم عرب نما صہیونی تنظیم ہے جو اسلام کے نام پر یہودی ریاست کی خدمت کررہی ہے۔ اور یہ ان لوگوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو ابھی تک دہشت گردوں اور اسرائیل کے درمیان کسی ربط و تعلق کے منکر ہیں۔تقی الدین: دشمن نے اللقیس کو قتل کرکے لبنان اور اس کے امن و استحکام کو نشانہ بنایا ہے حزب الوفاق الوطنی نامی لبنانی سیاسی جماعت کے سربراہ بلال تقی الدین نے کل رات اسلامی مزاحمت کے ایک اعلی راہنما کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: راتوں کے چمگادڑوں نے شہید حسان اللقیس کو شہید کرنے کے لئے ضاحیہ جنوبیہ میں دراندازی کی اور بے شک ان کا مقصد لبنان کو قاتلانہ حملے کا نشانہ بنانا تھا اور انھوں نے لبنان اور اس کے امن و استحکام کو نشانہ بنایا ہے اور ہم ان سے کہتے ہیں کہ اللقیس کی شہادت کا واحد نتیجہ لبنان کے امن و استحکام کے تحفظ کے لئے مزاحمت تحریک کے عزم اور ارادے میں اضافہ، ہوگا۔ انھوں نے کہا: اس حملےمیں ملوث چمگادڑ بڑے مشہور ہوگئے ہیں اور وہ وہی خلیجی ہیں جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ ساز باز کررکھی ہے اور ان کا مقصد لبنان میں فتنہ انگیزي کرنا ہے۔ بلال تقی الدین نے اسلامی مزاحمت تحریک اور اس کے قائد جناب سید حسن نصر اللہ کو اس صدمے پر دلی تعزیت پیش کی اور شہید اللقیس کی روح پر سلام و درود بھیجتے ہوئے کہا: اس شہید عزیز نے 2006 میں اپنا ایک بیٹا بھی مزاحمت کے راستے میں قربان کردیا تھا اور ان کی روح شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
اس کمانڈر کی شہادت جس کے قتل کی آرزو عرصہ دارز سے اسرائیل کو تھی+تصاویر